Science & Technology

دنیا کا پہلا 3 کیمروں والا اسمارٹ ہیواوے پی 20 پرو پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔

لاہور میں ایک تصویری نمائش کے دوران ہیواوے نے اپنے اس فلیگ شپ فون کو متعارف کرایا۔

اس تصویری نمائش میں ایسی تصویریں رکھی گئی تھیں جو پی 20 پرو کے ذریعے لی گئی تھیں اور ان میں پاکستان کی خوبصورتی کی عکاسی کی گئی تھی۔

 

ہیواوے پی 20 پرو 6.1 کی لگ بھگ بیزل لیس اسکرین کے ساتھ ہے، جس کا ڈیزائن لوگوں کو متاثر کردینے والا ہے، جس پر آئی فون ایکس (10) جیسا نوچ بھی دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کیرین 970 پراسیسر کے ساتھ اینڈرائیڈ اوریو 8.1 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے ای ایم یو آئی 8.1 سے کیا ہے۔

 

پی 20 پرو میں 128 جی بی اسٹوریج (اس میں ایس ڈی کارڈ سپورٹ نہیں)، سکس جی بی ریم، 4000 ایم اے ایچ بیٹری، جبکہ آئی پی 67 واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنٹ جیسے فیچرز دیئے گئے ہیں۔

کیمرے

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس فون کے ذریعے سیلف لرننگ اے آئی ٹیکنالوجی بہترین فوٹوگرافی میں مدد دیتی ہے جبکہ اس کے کیمرے نے امیج کوالٹی ریٹنگ کرنے والی ویب سائٹ DxOMark کی جانب سے 109 اسکور حاصل کیا جو کہ کسی بھی اسمارٹ فون کا اب تک سب سے زیادہ اسکور ہے۔

ہیواوے نے اس فون کے بیک پر لائیسا کے اشتراک سے 3 کیمرے دیئے ہیں جو کہ 5x ہائیبرڈ زوم کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ روشنی، گہرائی اور خوبصورتی تصاویر میں نظر آتی ہے۔

اسی طرح اے آئی پروفیشنل فوٹوگرافی، ماسٹر اے آئی، اے آئی امیج اسٹیبلائزیشن جو تصویر بناتے ہوئے توازن برقرار رکھتا ہے جبکہ رات کی کم روشنی میں اچھی تصاویر لینا میں بھی مدد ملتی ہے۔

 

اس فون کے بیک پر ایک کیمرہ 40 میگا پکسل آر جی بی سنسر کے ساتھ، دوسرا 20 میگا پکسل مونوکروم سنسر کے ساتھ جبکہ تیسرا 8 میگا پکسل سنسر ٹیلی فونز لینز کے ساتھ ہے۔

ان تینوں کیمروں کے ساتھ ایف 1.8، ایف 1.6 اور ایف 2.4 وائیڈ آپرچر دیئے گئے ہیں اور انتہائی کم روشنی میں بھی معیاری تصاویر لینے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ فون ایس نائن اور ایس نائن پلس کی طرح 960 فریم فی سیکنڈ پر سلوموشن ویڈیو 720p ایچ ڈی ریزولوشن میں ریکارڈ کرسکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس کے پراسیسر میں موجود اے آئی ٹیکنالوجی کیمروں کو مناظر کی شناخت میں مدد دیتی ہے جبکہ حیرت انگیز لانگ ایکسپوزر ٹرائی پوڈ کے بغیر رات کو تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے۔

اور ہاں فور ڈی پریڈیکٹیو فوکس کی بدولت حرکت کرتی چیزوں کو فوکس میں رکھنا آسان ہوتا ہے۔

فرنٹ پر 24 میگا پکسل کیمرہ پورٹریٹ لائٹنگ کے ساتھ ہے جو کہ صارف کو اچھی سیلفی کے ساتھ اسے تھری ڈی سے سجانے میں میں بھی مدد دیتا ہے۔

یہ فون پاکستان میں 99 ہزار 999 روپے میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے، ٹوائیلائیٹ، مڈنائٹ بلیو اور بلیک گریڈینٹ رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

LONDON: Cambridge Analytica, the data firm embroiled in a controversy over its handling of Facebook user data, and its British parent firm SCL Elections have ceased operations, the company said on Wednesday.

Cambridge Analytica and SCL Elections will begin bankruptcy proceedings, the firm said, after losing clients and facing mounting legal fees in the controversy over reports the company harvested personal data about Facebook users beginning in 2014.

“The siege of media coverage has driven away virtually all of the Company’s customers and suppliers,” the company’s statement said.

“As a result, it has been determined that it is no longer viable to continue operating the business, which left Cambridge Analytica with no realistic alternative to placing the company into administration.” Allegations of improper use of data on 87 million Facebook users by Cambridge Analytica, which was hired by President Donald Trump’s 2016 election campaign, has hurt the shares of the world’s biggest social network and prompted multiple official investigations.

“Over the past several months, Cambridge Analytica has been the subject of numerous unfounded accusations and, despite the company’s efforts to correct the record, has been vilified for activities that are not only legal, but also widely accepted as a standard component of online advertising in both the political and commercial arenas,” the company’s statement said.

The firm is shutting down effective Wednes­day and employees have been told to turn in their computers, the Wall Street Journal reported earlier.

Cambridge Analytica is a part of SCL Group, a government and military contractor that says it works on everything from food security research to counter-narcotics to political campaigns. The group was founded more than 25 years ago, according to its website.

Published in Dawn, May 3rd, 2018

LOS ANGELES: Nasa on Saturday launched a next-generation satellite into space designed to monitor weather around the world and help improve forecasts.

The satellite, called the Joint Polar Satellite Sys­tem-1 (JPSS-1), is a joint venture between the US space agency and the Nat­ional Oceanic and Atmos­pheric Administration (NOAA), which provides weather reports and forecasts.

The satellite was laun­ched aboard a United Laun­­ch Alliance Delta II rocket as scheduled at 1:47am from Vandenberg Air Force Base in California.

It will orbit the Earth 14 times each day from one pole to the other at 512 miles (824 kilometers) above the planet, “providing scientists full global coverage twice a day,” NASA said.

 

The satellite “is the first in NOAA’s series of four, next-generation operational environmental satellites representing major advancements in observations used for severe weather prediction and environmental monitoring,” it said.

JPSS-1 “carries a suite of advanced instruments designed to take global measurements of atmospheric, land and sea conditions, from sea surface temperatures, volcanic ash, hurricane intensity and many more.” Four smaller satellites called CubeSats, part of Nasa’s educational nano-satellite programme, are to be released on the same mission.

The CubeSats belong to four US universities and will be set in orbit after the weather satellite has been deployed, Nasa said.

Two previous launch attempts had been cancelled, once due to high winds and another due to technical problems.

اسمارٹ موبائل کے پراسیسر اور دیگر آلات تیار کرنے والی امریکی ملٹی نیشنل کمپنی کوالکوم نے دیگر 2 کمپنیوں کی شراکت سے پہلے ’فائیو جی‘ انٹرنیٹ کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا ہے۔

خیال رہے کہ کوالکوم نے گزشتہ ماہ اکتوبر می ہی پہلی بار اسمارٹ موبائل میں ’فائیو جی‘ انٹرنیٹ چلانے کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا تھا۔

کمپنی نے کامیاب تجربے کے بعد ’فائیو جی‘ سپورٹڈ اسمارٹ موبائل کا مجوزہ ماڈل پیش کرتے ہوئے ان کے لیے خصوصی چپ تیار کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

تاہم اب اسی کمپنی نے زیڈ ٹی ای اور چائنا موبائل کے ساتھ پہلی بار ’فائیو جی‘ کے مشترکہ کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا ہے۔

ٹیکنالوجی نشریاتی ادارے ’اینڈرائڈ اتھارٹی‘ نے اپنی خبر میں بتایا کہ امریکی کمپنی نے دیگر دو کمپنیوں کے ساتھ پہلی بار تین مختلف ٹیکنالوجی کمپنیز کے آلات میں ’فائیو جی‘ انٹرنیٹ چلانے کا کامیاب تجربہ کیا۔
تجربے سے متعلق تفصیلات 23 نومبر کو جاری کیے جانے کا امکان ہے—فوٹو: اینڈرائڈ اتھارٹی
تجربے سے متعلق تفصیلات 23 نومبر کو جاری کیے جانے کا امکان ہے—فوٹو: اینڈرائڈ اتھارٹی

 

اس تجربے سے متعلق مکمل تفصیلات رواں ماہ 23 نومبر کو جاری کی جائیں گی، تاہم کوالکوم کے عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ’فائیو جی‘ انٹرنیٹ چلانے کا ’اِینڈ ٹو اِینڈ‘ کامیاب تجربہ کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ’فائیو جی‘ انٹرنیٹ کا تجربہ کرنے کے لیے چائنا موبائل کے ’فائیو جی‘ انوویشن سینٹر کو مرکز بنایا گیا، جہاں سے زیڈ ٹی ای کے ’فائیو جی‘ کی این آر کمرشل اسٹیشن اور کوالکوم کی ’فائیو جی‘ این آر سب 6 پروٹوٹائپ اسٹیشن سے رابطہ کیا گیا۔

کمپنیز نے اس تجربے کو تھرڈ جنریشن پارٹنرشپ پروجیکٹ (3 جی پی پی) کا نام دیا، جس کے ذریعے تینوں کمپنیوں نے ’فائیو جی‘ انٹرنیٹ سپورٹڈ آلات کی آزمائش کی۔

کمپنیز کا دعویٰ ہے کہ تیار کیے گئے آلات کے ذریعے ’فائیو جی‘ انٹرنیٹ کا کامیاب تجربہ کیا گیا، اور ڈیٹا کو ایک سے دوسری اور پھر تیسری جگہ کامیابی سے ٹرانسفر کیا گیا۔

’فائیو جی‘ انٹرنیٹ کے پہلے مشترکہ تجربہ کے دوران 3.5 گیگا ہائٹز کا ڈیٹا 100 میگا ہائٹز کی فریکوئنسی کی مدد سے منتقل کیا گیا۔

کمپنیز کے مطابق پہلی بار تین مختلف کمپنیوں کے آلات میں ’فائیو جی‘ انٹرنیٹ کے کامیاب تجربے کے بعد اب آئندہ برس 2018 کے اختتام تک ’فائیو جی‘ سپورٹڈ آلات کی فروخت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ فائیو جی کی اسپیڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی رفتار ایل ٹی ای ڈیٹا ٹرانسفر اسپیڈ سے ایک ہزار گنا زیادہ تیز ہوگی۔

فائیو جی ٹیکنالوجی اس وقت دنیا میں کہیں بھی دستیاب نہیں، چین، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ نے 2020 تک فائیو جی سروسز کو متعارف کرنے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔

 

 

After more than a decade of making cars and SUVs and, more recently, solar panels Tesla Inc. wants to electrify a new type of vehicle: big trucks.

The company unveiled its new electric semitractor-trailer Thursday night near its design centre in Hawthorne, California.

CEO Elon Musk said the semi is capable of travelling 804 kilometres on an electric charge even with a full 80,000-pound (36,287-kilogram) load and will cost less than a diesel semi considering fuel savings, lower maintenance and other factors.

Musk said customers can put down a $5,000 deposit for the semi now and production will begin in 2019.

 

“We're confident that this is a product that's better in every way from a feature standpoint,” Musk told a crowd of Tesla fans gathered for the unveiling. Musk didn't reveal the semi's price.

The truck will have Tesla's Autopilot system, which can maintain a set speed and slow down automatically in traffic. It also has a system that automatically keeps the vehicle in its lane.

Musk said several Tesla semis will be able to travel in a convoy, autonomously following each other.

Musk said Tesla plans a worldwide network of solar-powered “megachargers” that could get the trucks back up to 400 miles of range after charging for only 30 minutes.

The move fits with Musk's stated goal for the company of accelerating the shift to sustainable transportation. Trucks account for nearly a quarter of transportation-related greenhouse gas emissions in the US, according to government statistics.

But the semi also piles on more chaos at the Palo Alto, California-based company.

Tesla is way behind on production of the Model 3, a new lower-cost sedan, with some customers facing waits of 18 months or more. It's also ramping up production of solar panels after buying Solar City Corp. last year.

Tesla is working on a pickup truck and a lower-cost SUV and negotiating a new factory in China. Meanwhile, the company posted a record quarterly loss of $619 million in its most recent quarter.

On Thursday night, Tesla surprised fans with another product: An updated version of its first sports car, the Roadster.

Tesla says the new Roadster will have 620 miles of range and a top speed of 250 mph (402 kph). The car, coming in 2020, will have a base price of $200,000.

Musk, too, is being pulled in many directions. He leads rocket maker SpaceX and is dabbling in other projects, including high-speed transit, artificial intelligence research and a new company that's digging tunnels beneath Los Angeles to alleviate traffic congestion.

“He's got so much on his plate right now. This could present another distraction from really just making sure that the Model 3 is moved along effectively,” said Bruce Clark, a senior vice president and automotive analyst at Moody's.

Tesla's semi is venturing into an uncertain market. Demand for electric trucks is expected to grow over the next decade as the U.S., Europe and China all tighten their emissions regulations. Electric truck sales totaled 4,100 in 2016, but are expected to grow to more than 70,000 in 2026, says Navigant Research.

But most of that growth is expected to be for smaller, medium-duty haulers like garbage trucks or delivery vans. Those trucks can have a more limited range of 100 miles (160 kilometers) or less, which requires fewer expensive batteries.

They can also be fully charged overnight.

Long-haul semi trucks, on the other hand, would be expected to go greater distances, and that would be challenging. Right now, there's little charging infrastructure on global highways.

Without Tesla's promised fast-charging, even a mid-sized truck would likely require a two-hour stop, cutting into companies' efficiency and profits, says Brian Irwin, managing director of the North American industrial group for the consulting firm Accenture.

Irwin says truck companies will have to watch the market carefully, because tougher regulations on diesels or an improvement in charging infrastructure could make electric trucks more viable very quickly. Falling battery costs also will help make electric trucks more appealing compared to diesels.

But even lower costs won't make trucking a sure bet for Tesla. It faces stiff competition from long-trusted brands like Daimler AG, which unveiled its own semi prototype last month.

“These are business people, not fans, and they will need convinced that this truck is better for their balance sheet than existing technology. It probably is, based on the specs provided, but this isn't necessarily a slam dunk,” said Rebecca Lindland, an executive analyst at Kelley Blue Book.

Musk said Tesla will guarantee the semi's powertrain for one million miles to help alleviate customers' concerns.

واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی۔ اب کسی کوغلطی سے بھیجا جانے والا پیغام کہیں اور بھیج دیا جائے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بالآخردنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ سے بھیجے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا فیچرمتعارف کرا دیا گیا ہے۔

اگرآپ نے سوشل میڈیا پرپیغام لکھنے میں غلطی کردی ہے توکوئی بات نہیں، آپ اپنے بھیجے گئے پیغام میں رد وبدل کرسکتے ہیں ، کئی ماہ کی آزمائش کے بعد آخر کار واٹس ایپ نے نیا فیچرمتعارف کروادیا ہے جس کے ذریعے غلطی سے کسی اورکو بھیجے جانے والے پیغامات ڈیلیٹ کیےجاسکیں گے۔

صارفین کی جانب سے اس فیچرکا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جا رہا تھا جو اب اینڈرائیڈ، آئی او ایس اور ونڈوز فونزمیں دستیاب ہوگا۔ نئے فیچر میں پیغامات کو دوسرے فرد کے دیکھنے سے پہلے ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔

اس فیچر کی تصدیق کرتے ہوئے واٹس ایپ انتظامیہ نے اپنی ویب سائٹ پربتایا کہ صارفین بھیجے گئے پیغامات ڈیلیٹ کرسکتے ہیں۔ تاہم اس فیچر میں ایک خامی ہے، وہ یہ کہ جب بھی آپ کوئی پیغام ڈیلیٹ کریں گے دوسرے صارف کے لیے یہ ضرور لکھا رہ جائے گا کہ اس پیغام کو ڈیلیٹ کردیا گیا ہے۔

نیا فیچر’’ ڈیلیٹ فارایوری ون‘‘ کے نام سے ہے جسے انفرادی کے علاوہ واٹس ایپ گروپ چیٹ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے بس یہ خیال رکھنا ہو گا کہ پیغام بھیجے جانے کے بعد سات منٹ کے اندرڈیلیٹ کرنا ہوگا۔

غلطی سے بھیجا گیا پیغام ڈیلیٹ کرنے کے لیے اس پیغام پر انگلی رکھ کر دبائیں تواسکرین کے اوپری حصے میں آپشنزظاہر ہوں گے ۔ ان میں سے ٹریش بن کے آئیکون پرکلک کریں تو دو آپشنز ’’ڈیلیٹ فارمی‘‘ اور ’’ڈٰیلیٹ فارایوری ون ‘‘ دکھائی دیں گے ، آپ دوسرے آئیکون پر کلک کردیں تو پیغام ڈیلیٹ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو ویڈیو کالنگ کی سہولت بھی دے رکھی ہے جس کا دائرہ کار دنیا بھر میں پھیل چکا ہے، ساتھ ہی 50 مختلف زبانوں میں واٹس ایپ سروس موجود ہے، اس کے ذریعے دنیا بھر میں روزانہ تقریباً 100 ملین کالز کی جاتی ہیں۔

A house-sized asteroid grazed past Earth on Thursday, passing harmlessly inside the Moon's orbit, as predicted, to give experts a rare opportunity to rehearse for a real strike threat in future.

Dubbed 2012 TC4, the object's passing allowed scientists to practice spotting incoming objects, predicting their size and trajectory, and tracking their passage with a global network of telescopes and radars.

“We pretended that this was a critical object and exercised our communication,” said Detlef Koschny of the European Space Agency's Near-Earth Object programme.

The trial run was “a big success,” he said, despite some instruments not working as planned.

A radar system in Puerto Rico, for example, was out of service due to damage from the recent hurricane there.

“This is exactly why we do this exercise, to not be surprised by these things,” Koschny told AFP.

 

The asteroid flitted past around 0541 GMT at less than 44,000 kilometres (27.300 miles) from Earth's surface — just above the 36,000 km plane at which hundreds of geosynchronous satellites orbit our planet.

This was about an eighth of the distance between the Earth and the Moon.

Scientists had predicted that TC4 was between 10 and 30 metres (33-99 feet) wide. In the end, it measured some 10-12 metres — the smaller end of the range.

“This means it must be very bright,” to make it appear bigger, said Koschny. Observations also revealed that TC4 spins around its axis in about 12 minutes, “which is quite fast.”

When it comes back

The asteroid was about half the size of the meteoroid that exploded in the atmosphere over Chelyabinsk in central Russia in 2013 with the kinetic energy of 30 Hiroshima atom bombs.

The resulting shockwave blew out the windows of nearly 5,000 buildings and injured more than 1,200 people.

While the Chelyabinsk event caught everyone unawares, TC4 is one of thousands of space rocks whose whereabouts are known. Millions are not.

On a 609-day loop around the Sun, TC4 will return to Earth in 2050 and 2079, Koschny's colleague Ruediger Jehn has told AFP.

It will not hit Earth on its next approach but could come close in 2079 — another reason for studying its route through the Solar System.

With a one-in-750 chance of hitting in 2079, TC4 is listed at number 13 on the “risk list” of objects posing even the remotest impact threat.

As its full name suggests, the asteroid was first spotted five years ago when it called on Earth at about double the distance, before disappearing from view.

Astronomers will comb through the data they have now gathered, to learn more about the asteroid's composition.

Flybys like these are quite common — about three objects in TC4's size range graze past at a similar distance every year. What made this one special is that it was chosen to test the global warning system.

Scientists believe Earth will be hit again by a space rock of the size that wiped out the dinosaurs, though nobody knows when.

And even if we become better at predicting a strike, there is very little we can do about it.

Futuristic projects mooted to deflect or destroy incoming space rocks have come to nought so far, and the only strategy would be to evacuate people in zones at risk.

7.png

login with social account

Unimoni Asia Cup 2018

كون جيتے گا یونیمونی ایشیا کپ كا فائنل؟

250 دينار جیتنے کا موقع

اپنى پیشن گوئی 60960999 وٹس اپ پر بھیجیں

یونیمونی: ٹیم كا نام - آپ کا نام

جوابات وصول کرنے کے لئے آخری تاریخ  27-ستمبر-2018

 

رقم الترخيص العرض:ت-ج 2018/221

Images of Kids

Events Gallery

Currency Rate

/images/banners/muzainirate.jpg

 

As of Sun, 23 Sep 2018 16:06:39 GMT

1000 PKR = 2.457 KWD
1 KWD = 407.000 PKR

Al Muzaini Exchange Company

Go to top